ووٹ پھر نہ دینا تم۔

ووٹ پھر نہ دینا تم۔

بے حیائی کی اِنتہا ہے یہ
یہ حکُومت ہے یا بلا ہے یہ

بُھوک سے لوگ مر رہے ہیں یہاں
اور خوابوں میں مُبتلا ہے یہ

بُھول ہم سے ہُوئی جو اِس کو چُنا
لوگو بُھگتو جو کی خطا ہے یہ

جان و عِزّت یہاں نہِیں محفُوظ
امن کی کیسی فاختہ ہے یہ

ہم نے دیکھا بدلتا پاکستان
کیا محبّت تھی، کیا صِلہ ہے یہ؟؟

پہلے کرتا تھا چوک میں ناٹک
اب تو رُسوا بھی جابجا ہے یہ

حق یتامہ کا مار کھاتا ہے
خُوش لِباسی میں بھی گدا ہے یہ

عہد باندھا تھا، عہد شِکنی کی
ہو کے رُسوا مرے دُعا ہے یہ

ووٹ حسرتؔ کبھی نہِیں دینا
اب تو اعلان برملہ ہے یہ

رشِید حسرتؔ

بے حیائی کی اِنتہا ہے یہ


بے حیائی کی اِنتہا ہے یہ
یہ حکُومت ہے یا بلا ہے یہ

بُھوک سے لوگ مر رہے ہیں یہاں
اور خوابوں میں مُبتلا ہے یہ

بُھول ہم سے ہُوئی جو اِس کو چُنا
لوگو بُھگتو جو کی خطا ہے یہ

جان و عِزّت یہاں نہِیں محفُوظ
امن کی کیسی ساختہ ہے یہ

ہم نے دیکھا بدلتا پاکستان
کیا محبّت تھی، کیا صِلہ ہے یہ؟؟

پہلے کرتا تھا چوک میں ناٹک
اب تو رُسوا بھی جابجا ہے یہ

حق یتامہ کا مار کھاتا ہے
خُوش لِباسی میں بھی گدا ہے یہ

عہد باندھا تھا عہد شِکنی کی
ہو کے رُسوا مرے دُعا ہے یہ

ووٹ حسرتؔ کبھی نہِیں دینا
اب تو اعلان برملہ ہے یہ

رشِید حسرتؔ

بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی

بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی
تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی

حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری
گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی

مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا
کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی

تُمہاری یاد کی خُوشبُو کے دائروں میں رہا
اگرچہ زرد رہی، پر بہار جیسی تھی

تُمہارے ہِجر کے موسم میں، کیا کہُوں حالت
کبھی اُجاڑ، کبھی تو سِنگھار جیسی تھی

رہی ہے گِرد مِرے حلقہ اپنا تنگ کِیئے
حیات جیسے کِسی اِک حِصار جیسی تھی

وہ رات جِس سے میں شب بھر لِپٹ کے روتا رہا
رشِیدؔ شب تھی مگر غمگُسار جیسی تھی

رشِید حسرتؔ

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟
ہر ایک چہرے سے ظاہِر ملال ہے کہ نہِیں؟

تمام چِیزوں کی قِیمت بڑھائی جاتی رہی
غرِیب مارنے کی اِس میں چال ہے کہ نہِیں؟

پہُنچ سے پہلے ہی باہر تھا عیش کا ساماں
فلک کے پاس ابھی آٹا، دال ہے کہ نہِیں؟

جو برق مہِنگی بتاتا بِلوں کو پھاڑتا تھا
کُچھ اپنے عہد میں اِس کا خیال ہے کہ نہِیں؟

ہمارے جِسم سے نوچا ہے گوشت، خُوں چُوسا
ابھی یہ دیکھنے آیا ہے کھال ہے کہ نہِیں؟

وہ جِس کے عہد میں ماں باپ بیچ دیں بچّے
تُمہیں کہو کہ یہ وجہِ وبال ہے کہ نہِیں؟

ٹھٹھر کے سرد عِلاقوں میں مر رہے ہیں لوگ
زُباں سے پُھوٹو تُمہیں کُچھ مجال ہے کہ نہِیں؟

کِیا تھا عہد بحالی کا، چِھین لی روٹی
غرِیب کے لِیئے جِینا مُحال ہے کہ نہِیں؟

نمُونہ سامنے رکھتے ہیں ہم خلِیفوں کا
تُمہارے سامنے کوئی مِثال ہے کہ نہِیں؟

دِکھائے باغ ہرے ہم غرِیب لوگوں کو
عوام پہلے سے مخدُوش حال ہے کہ نہِیں؟

امیرِ شہر نے آنکھیں رکھی ہیں بند رشِیدؔ
وگرنہ چہرہ طمانچوں سے لال ہے کہ نہِیں؟

رشِید حسرتؔ

تسلِیم ہم شِکست کریں یا نہِیں کریں




تسلِیم ہم شِکست کریں یا نہِیں کریں
اپنی انا کو پست کریں یا نہِیں کریں

اِک شب کا ہے قیام رہو تُم ہمارے ساتھ
کھانے کا بند و بست کریں یا نہِیں کریں

شوہر بِچارے سوچ میں ڈُوبے ہُوئے ہیں آج
بِیوی کو زیرِ دست کریں یا نہِیں کریں

اعصاب کی شکست کو عرصہ گُزر گیا
پِھر سے عدم کو ہست کریں یا نہِیں کریں

دِل یہ صنم تراش بھی ہے بُت شِکن بھی ہے
اِس کو خُدا پرست کریں یا نہِیں کریں

لکھا ہؤا ہے سال وِلادت کا اور کُچھ
اِس کو بدل کے شست کریں یا نہِیں کریں

تُم نے کہا تھا مارچ میں لوٹاؤ گے اُدھار
اب فیصلہ اگست کریں یا نہِیں کریں

چھوڑا ہے اُس نے بِیچ میں کسنے کو اِک خلا
اب فِقرہ کوئی جست کریں یا نہِیں کریں

حسرتؔ ہے وجد کیف مگر چُپ لگی ہُوئی
کہیے کہ مست الست کریں یا نہِیں کریں

رشید حسرتؔ

تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب

تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب
بے روزگار گھر سے نِکالا گیا تھا جب

ناکامیوں نے مُجھ میں بڑی توڑ پھوڑ کی
محرُومیوں کی گود میں ڈالا گیا تھا جب

اُس نے تو صاف آنے سے اِنکار کر دیا
احقر منانے، حضرتِ اعلا! گیا تھا جب

تب اُس کی ضِد میں تھا کہ نہ تھا مُمکِنات میں
بچّے کی طرح ڈانٹ کے ٹالا گیا تھا جب

اُس دِن سے یہ وجُود اندھیروں کی زد میں ہے
مُجھ کو اکیلا چھوڑ اُجالا گیا تھا جب

اپنی زبان کاٹ کے جانا پڑا مُجھے
اِک فرد ساتھ بولنے والا گیا تھا جب

تب تک مِرا وجُود ہی گل بھی چکا حُضور
مُدّت کے بعد آ کے سنبھالا گیا تھا جب

اُس کے گلے میں غیر کی بانہوں کے ہار تھے
لے کر خلُوص و پیار کی مالا گیا تھا جب

اب ہیں سمیٹنے میں تُمہیں ہِچکِچاہٹیں
تب کیوں نہ تِھیں رشؔید کو گالا گیا تھا جب

رشید حسرتؔ

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close