Post

بس ایک ہی حل اِس کا مِرے پاس ہے لوگو


بس ایک ہی حل اِس کا مِرے پاس ہے لوگو
جو حُکمراں بک جائیں وہ بکواس ہے لوگو

کِِس بُھوک سے گُزرے ہیں، ہمیں پیاس بلا کی
پُوچھا ہے کبھی، اِن کو یہ احساس ہے لوگو؟

ہم جِس کو سمجھ بیٹھے تھے کشکول شِکن ہے
افسوس وہی ذات کا ہی داس ہے لوگو

قانون یہاں پاؤ گے اِک اور طرح کا
ہے اِس کے لیئے عام، کوئی خاص ہے لوگو

تعلیم کا موقع ہے اُنہیں جن کو نہِیں شوق
مزدُوری کریں وہ کہ جِنہیں پیاس ہے لوگو

ماتھے پہ کہِیں بل نہ کوئی لب پہ گِلہ ہے
ہر جور و جفا اب تو ہمیں راس ہے لوگو

ہر حال میں انجام سے ہے سب کو گُزرنا
ہے دُور کوئی اِس سے کوئی پاس ہے لوگو

ہاری کی جواں بیٹی اُٹھا لایا وڈیرا
انصاف کی کیا اب بھی تُمہیں آس ہے لوگو

حسرتؔ یہ کِسی اور کو کیا دے گا تسلّی
جس سمت نظر جائے وہاں یاس ہے لوگو

رشید حسرتؔ

اے خُدا اب تو مِرا تُو ہی بھرم قائِم رکھ


اے خُدا اب تو مِرا تُو ہی بھرم قائِم رکھ
میری آنکھوں کو نمی دی ہے تو نم قائِم رکھ

سرخمِیدہ ہے تِرے سامنے اور یُوں ہی رہے
عِجز بڑھتا ہی رہے، اِس میں یہ خم قائِم رکھ

کیا کہُوں میرے گُناہوں کی نہِیں کوئی حدُود
مُجھ خطا کار پہ تُو اپنا کرم قائِم رکھ

یاد محبُوب کے کُوچے کی ستاتی ہے مُجھے
جو مدِینے کا مِرے دل میں ہے غم قائِم رکھ

ہم کو اِسلام کے جھنڈے کے تلے کر یکجا
دِل میں اِیمان رہے، سر پہ علم قائِم رکھ

تیری مخلُوق سے میں پیار کرُوں، دُکھ بانٹُوں
اور بدلے میں مِلے جو بھی سِتم قائِم رکھ

تُو خُدا میرا ہے مقصُود مُجھے تیری رضا
تُو ہے راضی تو مِرے رنج و الم قائِم رکھ

تیرے محبُوب کی ہے مُجھ کو شِفاعت کی آس
کملی والے کی ہے بس تُجھ کو قسم قائِم رکھ

خاک حسرتؔ سے بھلا ہو گی ثنا خوانی تِری
عِجز بڑھ کر ہے مِرے دِل میں کہ کم قائِم رکھ


رشِید حسرتؔ


بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی

بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی
تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی

حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری
گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی

مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا
کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی

تُمہاری یاد کی خُوشبُو کے دائروں میں رہا
اگرچہ زرد رہی، پر بہار جیسی تھی

تُمہارے ہِجر کے موسم میں، کیا کہُوں حالت
کبھی اُجاڑ، کبھی تو سِنگھار جیسی تھی

رہی ہے گِرد مِرے حلقہ اپنا تنگ کِیئے
حیات جیسے کِسی اِک حِصار جیسی تھی

وہ رات جِس سے میں شب بھر لِپٹ کے روتا رہا
رشِیدؔ شب تھی مگر غمگُسار جیسی تھی

رشِید حسرتؔ

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟

عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟
ہر ایک چہرے سے ظاہِر ملال ہے کہ نہِیں؟

تمام چِیزوں کی قِیمت بڑھائی جاتی رہی
غرِیب مارنے کی اِس میں چال ہے کہ نہِیں؟

پہُنچ سے پہلے ہی باہر تھا عیش کا ساماں
فلک کے پاس ابھی آٹا، دال ہے کہ نہِیں؟

جو برق مہِنگی بتاتا بِلوں کو پھاڑتا تھا
کُچھ اپنے عہد میں اِس کا خیال ہے کہ نہِیں؟

ہمارے جِسم سے نوچا ہے گوشت، خُوں چُوسا
ابھی یہ دیکھنے آیا ہے کھال ہے کہ نہِیں؟

وہ جِس کے عہد میں ماں باپ بیچ دیں بچّے
تُمہیں کہو کہ یہ وجہِ وبال ہے کہ نہِیں؟

ٹھٹھر کے سرد عِلاقوں میں مر رہے ہیں لوگ
زُباں سے پُھوٹو تُمہیں کُچھ مجال ہے کہ نہِیں؟

کِیا تھا عہد بحالی کا، چِھین لی روٹی
غرِیب کے لِیئے جِینا مُحال ہے کہ نہِیں؟

نمُونہ سامنے رکھتے ہیں ہم خلِیفوں کا
تُمہارے سامنے کوئی مِثال ہے کہ نہِیں؟

دِکھائے باغ ہرے ہم غرِیب لوگوں کو
عوام پہلے سے مخدُوش حال ہے کہ نہِیں؟

امیرِ شہر نے آنکھیں رکھی ہیں بند رشِیدؔ
وگرنہ چہرہ طمانچوں سے لال ہے کہ نہِیں؟

رشِید حسرتؔ

">

Don't have an account? Sign up

Forgot your password?

Error message here!

Error message here!

Hide Error message here!

Error message here!

OR
OR

Lost your password? Please enter your email address. You will receive a link to create a new password.

Error message here!

Back to log-in

Close