یہ جو بازار میں پھیلے ہوئے ہیں
By fahmi-badayuniFebruary 6, 2024
یہ جو بازار میں پھیلے ہوئے ہیں
سب اپنے کمروں میں سمٹے ہوئے ہیں
دکھا سکتے ہیں داناؤں کو رستہ
میاں ہم عشق میں اندھے ہوئے ہیں
ترا بازار کیسے چھوڑ جائیں
یہیں مہنگے یہیں سستے ہوئے ہیں
تری کاپی کتابوں کی بدولت
مرے پرچہ بہت اچھے ہوئے ہیں
تمہاری آنکھوں نے کچھ کہہ دیا ہے
تمناؤں کے منہ پھولے ہوئے ہیں
کہیں ٹھوکر نہ لگ جائے زمیں پر
ستارے ذہن میں رکھے ہوئے ہیں
بناتے رہتے ہیں جنت کے نقشے
تری گلیوں میں جو بھٹکے ہوئے ہیں
وہ پیالے ہوں کہ مٹکے ہوں کہ کوزے
سبھی اک چاک سے اترے ہوئے ہیں
سب اپنے کمروں میں سمٹے ہوئے ہیں
دکھا سکتے ہیں داناؤں کو رستہ
میاں ہم عشق میں اندھے ہوئے ہیں
ترا بازار کیسے چھوڑ جائیں
یہیں مہنگے یہیں سستے ہوئے ہیں
تری کاپی کتابوں کی بدولت
مرے پرچہ بہت اچھے ہوئے ہیں
تمہاری آنکھوں نے کچھ کہہ دیا ہے
تمناؤں کے منہ پھولے ہوئے ہیں
کہیں ٹھوکر نہ لگ جائے زمیں پر
ستارے ذہن میں رکھے ہوئے ہیں
بناتے رہتے ہیں جنت کے نقشے
تری گلیوں میں جو بھٹکے ہوئے ہیں
وہ پیالے ہوں کہ مٹکے ہوں کہ کوزے
سبھی اک چاک سے اترے ہوئے ہیں
74839 viewsghazal • Urdu