ہوئے جب آئنے آپے سے باہر
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
ہوئے جب آئنے آپے سے باہر
ستم گر آ گیا چہرے سے باہر
مرے کترے ہوئے پر اڑ رہے ہیں
ابھی موجود ہوں پنجرے سے باہر
یقیناً جیب کترے تو ملیں گے
تو کیا بیٹھا رہوں میلے سے باہر
مؤذن پیر سے کمزور نکلا
مرید آیا نہیں حجرے سے باہر
مناسب دام جو بتلائے میں نے
دکاں کر دی گئی میلے سے باہر
وہی تصویر ہو جاتی ہے میلی
نکل آتی ہے جو شیشے سے باہر
لغت کو چھوڑ جاتے ہیں وہ الفاظ
جنہیں کرتا ہے تو قصہ سے باہر
ترے بیمار بھی ضدی بہت ہیں
نکلتے ہی نہیں خطرے سے باہر
ستم گر آ گیا چہرے سے باہر
مرے کترے ہوئے پر اڑ رہے ہیں
ابھی موجود ہوں پنجرے سے باہر
یقیناً جیب کترے تو ملیں گے
تو کیا بیٹھا رہوں میلے سے باہر
مؤذن پیر سے کمزور نکلا
مرید آیا نہیں حجرے سے باہر
مناسب دام جو بتلائے میں نے
دکاں کر دی گئی میلے سے باہر
وہی تصویر ہو جاتی ہے میلی
نکل آتی ہے جو شیشے سے باہر
لغت کو چھوڑ جاتے ہیں وہ الفاظ
جنہیں کرتا ہے تو قصہ سے باہر
ترے بیمار بھی ضدی بہت ہیں
نکلتے ہی نہیں خطرے سے باہر
61335 viewsghazal • Urdu