اشک ٹپکا نہ مری آنکھ میں خوں آیا ہے

By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
اشک ٹپکا نہ مری آنکھ میں خوں آیا ہے
مدتوں بعد کہیں دل کو سکوں آیا ہے
اس لیے ہے مرے اشعار میں غم کی شدت
میرے حصے میں ترا درد فزوں آیا ہے


ریت پر پڑنے لگیں خوں کی پھواریں یک دم
کوئی اس طرح سر دشت جنوں آیا ہے
گر ترے یار تجھے زہر نہیں دے سکتے
کیوں جگر کٹ کے ترا منہ سے بروں آیا ہے


فائدہ کچھ بھی نہیں ہوگا رفو کرنے سے
زخم اس بار مجھے اتنا دروں آیا ہے
وہ پری دیکھ کے معلوم ہوا ہے مجھ کو
کون اس شہر پہ کرنے کو فسوں آیا ہے


میں محبت میں کبھی شرک نہیں کر سکتا
تو مکمل مرے معیار پہ یوں آیا ہے
ہم سے محروموں کو اتنا تو بتایا جائے
اے خدا کس کے لیے کن فیکوں آیا ہے


14899 viewsghazalUrdu