شدت بلا کی ہوتی ہے جس وقت پیاس میں

By chand-kakralviJanuary 19, 2024
شدت بلا کی ہوتی ہے جس وقت پیاس میں
دریا دکھائی دیتا ہے خالی گلاس میں
وہ چیز ڈھونڈنے سے بھی ملتی ہے پھر کہاں
جو چیز کھوئی جاتی ہے ہوش و حواس میں


ان راستوں سے ہم کو گزارا فریب نے
کانٹے چھپے ہوئے تھے جہاں نرم گھاس میں
بے کار کر رہے ہیں شکایت نصیب سے
ریشم کے کیڑے پالنے والے کپاس میں


ہم نے قلم کی نوک چلا کر دماغ پر
ٹانکے ہیں بیل بوٹے غزل کے لباس میں
اے چاندؔ میری سمت ابھی اپنا رخ نہ کر
اس وقت کوئی اور ہے میرے قیاس میں


27403 viewsghazalUrdu