آب چشم آئے اور نہاؤں میں
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
آب چشم آئے اور نہاؤں میں
کچھ پیوں اور کچھ بہاؤں میں
آنسوؤں کا ہے انتظار مجھے
پانی برسے تو لہلہاؤں میں
میں کہ مزدور عشق خوں میں نہاؤں
کیوں پسینے میں ہی نہاؤں میں
میرے مرنے پہ لوگ رونے لگے
ان کے رونے پہ قہقہاؤں میں
ہو گیا وصل جتنا ہونا تھا
بستر جسم اب تہاؤں میں
وہ مجھے جتنا سیدھی راہ پہ لائے
اور اتنا ہی گمرہاؤں میں
سانپ ہوں میں تو یہ ذرا سا کیوں
خوب زہراؤں اژدہاؤں میں
چاہے جتنا ہوں فرحت اللہ خانؔ
فرحت احساسؔ ہی کہاؤں میں
کچھ پیوں اور کچھ بہاؤں میں
آنسوؤں کا ہے انتظار مجھے
پانی برسے تو لہلہاؤں میں
میں کہ مزدور عشق خوں میں نہاؤں
کیوں پسینے میں ہی نہاؤں میں
میرے مرنے پہ لوگ رونے لگے
ان کے رونے پہ قہقہاؤں میں
ہو گیا وصل جتنا ہونا تھا
بستر جسم اب تہاؤں میں
وہ مجھے جتنا سیدھی راہ پہ لائے
اور اتنا ہی گمرہاؤں میں
سانپ ہوں میں تو یہ ذرا سا کیوں
خوب زہراؤں اژدہاؤں میں
چاہے جتنا ہوں فرحت اللہ خانؔ
فرحت احساسؔ ہی کہاؤں میں
26363 viewsghazal • Urdu