آج اس کے دل میں دیکھا دوسرا اپنی جگہ
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
آج اس کے دل میں دیکھا دوسرا اپنی جگہ
پھر جو اپنے دل میں دیکھا کچھ نہ تھا اپنی جگہ
کیوں نہ کشتی سے اتر کر سجدہ ساحل پر کروں
ناخدا اپنی جگہ ہے اور خدا اپنی جگہ
ہجر دکھ دائی ہے تو کیا عشق کرنا چھوڑ دیں
فاصلہ اپنی جگہ ہے راستہ اپنی جگہ
گر نہیں سکتے ستارے تیری جھولی میں کبھی
آسمانی شعر پڑھ کر بیٹھ جا اپنی جگہ
شاعروں کو قیس سے اصلاح لینی چاہئے
فلسفہ اپنی جگہ ہے تجربہ اپنی جگہ
ہم جو کہنا چاہتے تھے کہہ نہیں پائے کبھی
سوچنا اپنی جگہ ہے بولنا اپنی جگہ
آج بھی محفل میں اس کی جشن پورا ہو گیا
رہ گیا اس بار بھی میں ڈھونڈتا اپنی جگہ
پھر جو اپنے دل میں دیکھا کچھ نہ تھا اپنی جگہ
کیوں نہ کشتی سے اتر کر سجدہ ساحل پر کروں
ناخدا اپنی جگہ ہے اور خدا اپنی جگہ
ہجر دکھ دائی ہے تو کیا عشق کرنا چھوڑ دیں
فاصلہ اپنی جگہ ہے راستہ اپنی جگہ
گر نہیں سکتے ستارے تیری جھولی میں کبھی
آسمانی شعر پڑھ کر بیٹھ جا اپنی جگہ
شاعروں کو قیس سے اصلاح لینی چاہئے
فلسفہ اپنی جگہ ہے تجربہ اپنی جگہ
ہم جو کہنا چاہتے تھے کہہ نہیں پائے کبھی
سوچنا اپنی جگہ ہے بولنا اپنی جگہ
آج بھی محفل میں اس کی جشن پورا ہو گیا
رہ گیا اس بار بھی میں ڈھونڈتا اپنی جگہ
80643 viewsghazal • Urdu