آخری داد راکھ نے دی تھی
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
آخری داد راکھ نے دی تھی
میں نے غزلوں میں آگ دے دی تھی
چاہے پھولوں کے بھیس میں ہی سہی
پہلی آواز آپنے دی تھی
وہ نہیں جانتا کہ اس کو بھیکھ
میں نے بھی بھیکھ مانگ کے دی تھی
گھر میں دروازہ بھی نہیں تھا مرے
اس نے دستک بھی دور سے دی تھی
آپ تنہا اگر نہیں تھے تو
میری تنہائی کیوں کریدی تھی
میں نے غزلوں میں آگ دے دی تھی
چاہے پھولوں کے بھیس میں ہی سہی
پہلی آواز آپنے دی تھی
وہ نہیں جانتا کہ اس کو بھیکھ
میں نے بھی بھیکھ مانگ کے دی تھی
گھر میں دروازہ بھی نہیں تھا مرے
اس نے دستک بھی دور سے دی تھی
آپ تنہا اگر نہیں تھے تو
میری تنہائی کیوں کریدی تھی
85178 viewsghazal • Urdu