آلام روزگار سے مرعوب ہو گئے
By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
آلام روزگار سے مرعوب ہو گئے
سارے اصول عشق کے معیوب ہو گئے
شاید میں اپنے آپ سے غافل نہ رہ سکا
کچھ لوگ میری ذات سے منسوب ہو گئے
پہلے پہل تو ہم پہ ترا کچھ اثر ہوا
پھر دیکھتے ہی دیکھتے مغلوب ہو گئے
پہنچا نہ کچھ ہمارا کہا ان کے ذوق تک
سمجھے تھے ہم کہ صاحب اسلوب ہو گئے
شہرت کی سادگی نے بھی کیا کیا نہ کچھ کیا
کتنے ہی بدترین تھے جو خوب ہو گئے
تیرا فراق باعث کیف و نشاط تھا
دنیا ترے وصال میں مجذوب ہو گئے
احمرؔ کا کیا بنا کوئی پوچھے تو یہ کہو
نذر ستم ظریفیٔ محبوب ہو گئے
سارے اصول عشق کے معیوب ہو گئے
شاید میں اپنے آپ سے غافل نہ رہ سکا
کچھ لوگ میری ذات سے منسوب ہو گئے
پہلے پہل تو ہم پہ ترا کچھ اثر ہوا
پھر دیکھتے ہی دیکھتے مغلوب ہو گئے
پہنچا نہ کچھ ہمارا کہا ان کے ذوق تک
سمجھے تھے ہم کہ صاحب اسلوب ہو گئے
شہرت کی سادگی نے بھی کیا کیا نہ کچھ کیا
کتنے ہی بدترین تھے جو خوب ہو گئے
تیرا فراق باعث کیف و نشاط تھا
دنیا ترے وصال میں مجذوب ہو گئے
احمرؔ کا کیا بنا کوئی پوچھے تو یہ کہو
نذر ستم ظریفیٔ محبوب ہو گئے
42882 viewsghazal • Urdu