آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
دنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
حق چھین کے لیتی ہے یہاں چرب زبانی
خاموش پرندوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستار ہے دنیا
مٹی کے چراغوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
ہر آتش نمرود کو گلزار بنانا
خالق کے خلیلوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
عیار قلم کاروں کی خاطر ہیں خطابات
خوددار ادیبوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
مجرم کو عدالت سے دلا دینا رہائی
عالمؔ یہ وکیلوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
دنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
حق چھین کے لیتی ہے یہاں چرب زبانی
خاموش پرندوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستار ہے دنیا
مٹی کے چراغوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
ہر آتش نمرود کو گلزار بنانا
خالق کے خلیلوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
عیار قلم کاروں کی خاطر ہیں خطابات
خوددار ادیبوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
مجرم کو عدالت سے دلا دینا رہائی
عالمؔ یہ وکیلوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
79731 viewsghazal • Urdu