آنسوؤں کا ایک حلقہ کھینچ کر
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
آنسوؤں کا ایک حلقہ کھینچ کر
بت بنا بیٹھا ہوں صدمہ کھینچ کر
ایک کر ڈالا ہے سب ماضی و حال
وقت کی ڈوری کو تھوڑا کھینچ کر
پیاس کو بہلا رہا ہوں دیر سے
ریت پر تصویر دریا کھینچ کر
ملتوی کرتے رہے ہم موت کو
اک ذرا سانسوں کو الٹا کھینچ کر
جلد لے جا یار مستقبل مرے
حال سے سارا گزشتہ کھینچ کر
بند کر دیتا ہوں مٹی کے کواڑ
اک ذرا سا آب تازہ کھینچ کر
لا مری پہچان واپس کر مجھے
ورنہ دوں گا خالی چہرہ کھینچ کر
میں بھی مٹی کی طرح مضبوط ہوں
دیکھ لے سارا زمانہ کھینچ کر
آخر کار اپنی آنکھیں بند کیں
ایک سرد آہ تماشہ کھینچ کر
فرحت احساسؔ ایک مقناطیس ہے
لے گیا ہے جانے کیا کیا کھینچ کر
بت بنا بیٹھا ہوں صدمہ کھینچ کر
ایک کر ڈالا ہے سب ماضی و حال
وقت کی ڈوری کو تھوڑا کھینچ کر
پیاس کو بہلا رہا ہوں دیر سے
ریت پر تصویر دریا کھینچ کر
ملتوی کرتے رہے ہم موت کو
اک ذرا سانسوں کو الٹا کھینچ کر
جلد لے جا یار مستقبل مرے
حال سے سارا گزشتہ کھینچ کر
بند کر دیتا ہوں مٹی کے کواڑ
اک ذرا سا آب تازہ کھینچ کر
لا مری پہچان واپس کر مجھے
ورنہ دوں گا خالی چہرہ کھینچ کر
میں بھی مٹی کی طرح مضبوط ہوں
دیکھ لے سارا زمانہ کھینچ کر
آخر کار اپنی آنکھیں بند کیں
ایک سرد آہ تماشہ کھینچ کر
فرحت احساسؔ ایک مقناطیس ہے
لے گیا ہے جانے کیا کیا کھینچ کر
56575 viewsghazal • Urdu