اب کسی پر نظر نہیں جاتی

By abdurrahman-mominJanuary 18, 2024
اب کسی پر نظر نہیں جاتی
ایک صورت مگر نہیں جاتی
یہ صدائے فقیر اس دل تک
جانے کیا سوچ کر نہیں جاتی


وہ گزرتی ضرور ہے دل سے
پر وہ دل سے گزر نہیں جاتی
چھوڑ آئے ہیں وہ گلی لیکن
وہ گلی چھوڑ کر نہیں جاتی


ایک لمحہ کبھی نہیں آتا
اک گھڑی عمر بھر نہیں جاتی
ساتھ چلتی ہے ساتھ چلنے تک
ٹھیرنے پر ٹھہر نہیں جاتی


ایک آواز ایک ہی آواز
جو کبھی بے اثر نہیں جاتی
عشق کے ساتھ عقل بھی مومنؔ
اب کسی اور در نہیں جاتی


86262 viewsghazalUrdu