ادب کو اتنا گرا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
ادب کو اتنا گرا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
سخن کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
دیوں کا نام و نشاں مٹا کر تم ان کا خون جگر ملا کر
چراغ اپنا جلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہمیشہ جس نے سماج میں کی تمہارے عیبوں کی پردہ پوشی
اسی پہ تہمت لگا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہے گھر میں جس سے خدا کی رحمت ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت
اسی کو زحمت بتا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
جنہوں نے تم کو جنم دیا ہے پڑھا لکھا کر بڑا کیا ہے
انہیں ہی آنکھیں دکھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہے جن سے شاخ وفا مہکتی ہے جن کے خوں میں وطن پرستی
انہیں فسادی بتا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
محبتوں کے گلاب تم پر ہمیشہ ہم نے کئے نچھاور
ہمیں پہ نشتر چلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
مسرتوں کے دیے جلا کر ضرورتوں کا گلا دبا کر
غموں کو عالمؔ چھپا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
سخن کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
دیوں کا نام و نشاں مٹا کر تم ان کا خون جگر ملا کر
چراغ اپنا جلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہمیشہ جس نے سماج میں کی تمہارے عیبوں کی پردہ پوشی
اسی پہ تہمت لگا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہے گھر میں جس سے خدا کی رحمت ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت
اسی کو زحمت بتا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
جنہوں نے تم کو جنم دیا ہے پڑھا لکھا کر بڑا کیا ہے
انہیں ہی آنکھیں دکھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
ہے جن سے شاخ وفا مہکتی ہے جن کے خوں میں وطن پرستی
انہیں فسادی بتا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
محبتوں کے گلاب تم پر ہمیشہ ہم نے کئے نچھاور
ہمیں پہ نشتر چلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
مسرتوں کے دیے جلا کر ضرورتوں کا گلا دبا کر
غموں کو عالمؔ چھپا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا
94755 viewsghazal • Urdu