افسانہ دہرانے سے کیا ہوتا ہے

By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
افسانہ دہرانے سے کیا ہوتا ہے
اس بے رحم زمانے سے کیا ہوتا ہے
ٹیسیں کتنی داغوں میں رہ جاتی ہیں
زخموں کے بھر جانے سے کیا ہوتا ہے


ایک قلم اور بے پایاں احساس دروں
لفظوں کے پیمانے سے کیا ہوتا ہے
تحریک سیماب صفت کے پیروں میں
زنجیریں پہنانے سے کیا ہوتا ہے


دریا جب چاہے ساحل کو لے ڈوبے
اونچا بند بنانے سے کیا ہوتا ہے
چھت پر رہنے والے شاید بھول گئے
بنیادیں ہل جانے سے کیا ہوتا ہے


لغزش کا انجام کسے معلوم نہیں
آئینہ گر جانے سے کیا ہوتا ہے
خوشبو زندہ ہے تو کوئی بات نہیں
پھولوں کے مر جانے سے کیا ہوتا ہے


سچائی پر حرف نہیں آتا عرفانؔ
افواہیں پھیلانے سے کیا ہوتا ہے
64830 viewsghazalUrdu