اگر ذرا بھی کسی سر کا ذکر ہوتا ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
اگر ذرا بھی کسی سر کا ذکر ہوتا ہے
تو زور شور سے پتھر کا ذکر ہوتا ہے
امیر شہر کے تالاب کے کنارے پر
دبی زباں میں سمندر کا ذکر ہوتا ہے


جلا کے ایک شکستہ چراغ ناکامی
تمام رات مقدر کا ذکر ہوتا ہے
وہ جس کے سامنے دوچار پل ٹھہر جائے
تو آسمان میں اس گھر کا ذکر ہوتا ہے


تمہاری بزم میں جنت کی بات ہوتی ہے
ہماری بزم میں محشر کا ذکر ہوتا ہے
غریب روتے ہیں پہلے تو خالی ہاتھوں پر
پھر اس کے بعد سکندر کا ذکر ہوتا ہے


تمام شہر کے دروازہ بول اٹھتے ہیں
گلی گلی میں ترے در کا ذکر ہوتا ہے
87546 viewsghazalUrdu