اے اندھیرے روشنی کی زد میں آنا چھوڑ دے
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
اے اندھیرے روشنی کی زد میں آنا چھوڑ دے
آفتاب وقت پر انگلی اٹھانا چھوڑ دے
خود بخود محفوظ ہو جائے گی تیری آبرو
مغربی تہذیب سے خود کو سجانا چھوڑ دے
نسل نو میں حق پرستی کی صفت آ جائے گی
لقمۂ تر اپنے بچوں کو کھلانا چھوڑ دے
موج طوفاں سے نپٹنا خوب آتا ہے مجھے
میری کشتی کو بھنور آنکھیں دکھانا چھوڑ دے
قابلیت ہے اگر تجھ میں تو کچھ بن کر بتا
طنز کی تلوار دنیا پر چلانا چھوڑ دے
اے امیر شہر گھر میں روشنی کے واسطے
خون مفلس کا چراغوں میں جلانا چھوڑ دے
بول کر آتا نہیں انسان پر وقت زوال
میرے خستہ حال پر تو مسکرانا چھوڑ دے
آفتاب وقت پر انگلی اٹھانا چھوڑ دے
خود بخود محفوظ ہو جائے گی تیری آبرو
مغربی تہذیب سے خود کو سجانا چھوڑ دے
نسل نو میں حق پرستی کی صفت آ جائے گی
لقمۂ تر اپنے بچوں کو کھلانا چھوڑ دے
موج طوفاں سے نپٹنا خوب آتا ہے مجھے
میری کشتی کو بھنور آنکھیں دکھانا چھوڑ دے
قابلیت ہے اگر تجھ میں تو کچھ بن کر بتا
طنز کی تلوار دنیا پر چلانا چھوڑ دے
اے امیر شہر گھر میں روشنی کے واسطے
خون مفلس کا چراغوں میں جلانا چھوڑ دے
بول کر آتا نہیں انسان پر وقت زوال
میرے خستہ حال پر تو مسکرانا چھوڑ دے
84463 viewsghazal • Urdu