ایسا غم ہے کہ جو کر دے گا مرے بال سفید

By hina-ambareenFebruary 6, 2024
ایسا غم ہے کہ جو کر دے گا مرے بال سفید
اور وحشت بھی کچھ ایسی کہ ہوئے گال سفید
میں نے پتھرائی ہوئی آنکھ سے امبر دیکھا
آن کی آن ہوا تاروں بھرا تھال سفید


لاش اس شخص نے محنت سے بنایا مجھ کو
سرخ چادر کو مرے سر سے ہٹا ڈال سفید
اور پھر نیلا ہوا سارے کا سارا منظر
میں نے دیکھا تھا کسی پھول پہ رومال سفید


اجنبی بنتا ہے کیسے کوئی اپنا پل میں
کیسے ہوتا ہے گھڑی بھر میں لہو لال سفید
کالے کوے تو بہت جھوٹی خبر دیتے ہیں
تو کبوتر کئی پیغام رسا پال سفید


ہائے ان پھولوں نے کھا لی مرے گھر کی رونق
پھول بھیجے گئے تحفے میں تو ہر سال سفید
72701 viewsghazalUrdu