ایسی اذیتوں میں کسی کی بسر نہ ہو
By asim-qamarFebruary 25, 2024
ایسی اذیتوں میں کسی کی بسر نہ ہو
لگتا رہے کے ساتھ کوئی ہے مگر نہ ہو
اس نے بڑے جتن سے سجایا تھا یہ مکان
میں چاہتا ہوں کچھ بھی ادھر سے ادھر نہ ہو
جس طرح جھڑ رہا تھا پلستر یہاں وہاں
شاید سفر سے لوٹ کے جائیں تو گھر نہ ہو
دفتر کی دن گزاریاں سوتے میں بڑبڑاؤ
ایسے میں ایک روز کی چھٹی بھی گر نہ ہو
اے یار میری بات سمجھ میں بھگت چکا
ہونا ہے منحصر تو کسی ایک پر نہ ہو
اک رات بے بسی نے سسک کر کہا خدا
اک شام بھر کا ساتھ بھلے عمر بھر نہ ہو
اس کے سبب سخن ہے سخن کے سبب حیات
مر ہی نہ جائیں یار اداسی اگر نہ ہو
لگتا رہے کے ساتھ کوئی ہے مگر نہ ہو
اس نے بڑے جتن سے سجایا تھا یہ مکان
میں چاہتا ہوں کچھ بھی ادھر سے ادھر نہ ہو
جس طرح جھڑ رہا تھا پلستر یہاں وہاں
شاید سفر سے لوٹ کے جائیں تو گھر نہ ہو
دفتر کی دن گزاریاں سوتے میں بڑبڑاؤ
ایسے میں ایک روز کی چھٹی بھی گر نہ ہو
اے یار میری بات سمجھ میں بھگت چکا
ہونا ہے منحصر تو کسی ایک پر نہ ہو
اک رات بے بسی نے سسک کر کہا خدا
اک شام بھر کا ساتھ بھلے عمر بھر نہ ہو
اس کے سبب سخن ہے سخن کے سبب حیات
مر ہی نہ جائیں یار اداسی اگر نہ ہو
28869 viewsghazal • Urdu