عجب وصال کہ تقریب رو نمائی نہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
عجب وصال کہ تقریب رو نمائی نہیں
پھر ایسا ہجر کہ جس میں کہیں جدائی نہیں
لباس جسم تو موجود ہے ابھی تجھ پر
برہنہ ہونا مری جان بے حیائی نہیں


وہ اک غزل تھی مگر روح کی زمین میں تھی
ہمارے خاک زدہ قافیوں میں آئی نہیں
زیادہ دن نہیں ٹکتا کسی کی نوکری میں
یہ دل کا طرز تعلق ہے بے وفائی نہیں


میں انتہاؤں سے آغاز کر رہا ہوں یہ عشق
سو اس سفر میں قدم کوئی ابتدائی نہیں
بدن تو بھیگتا رہتا ہے بارشوں میں بہت
مگر مری بدنیت ابھی نہائی نہیں


الگ الگ ہی ادا کیجیے یہ دوگانہ
اگر نماز جماعت میں ہم نوائی نہیں
نہ بھینچ یوں کہ چٹخ جائے شیشۂ آغوش
گرفت ڈھیلی بھی رکھنے میں کچھ برائی نہیں


نشست خاک سے اٹھا نہیں کبھی احساسؔ
وہ اٹھ کے مصدر روحانیت سے آئی نہیں
21248 viewsghazalUrdu