اپنی خودی کو تم سر بازار بیچ کر
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
اپنی خودی کو تم سر بازار بیچ کر
زندہ ہو کیسے دولت کردار بیچ کر
یا رب یہ کیا عذاب ہے نسل جدید پر
کرتی ہے عیش پرکھوں کی دستار بیچ کر
حاصل کی اس کے بیٹے نے کرسی مدیر کی
اتنا پڑھایا باپ نے اخبار بیچ کر
اس بد نصیب باپ کی مجبوریاں نہ پوچھ
خوشیاں خریدتا ہے جو گھر بار بیچ کر
مہنگی بہت پڑی مجھے سورج کی دوستی
پچھتا رہا ہوں سایۂ دیوار بیچ کر
جن کو شعور بندگی کرتا ہے رب عطا
جنگل خرید لیتے ہیں گھر بار بیچ کر
عالمؔ اسی طرح سے جو ہم منتشر رہے
کھا جائیں گے وطن کو یہ غدار بیچ کر
زندہ ہو کیسے دولت کردار بیچ کر
یا رب یہ کیا عذاب ہے نسل جدید پر
کرتی ہے عیش پرکھوں کی دستار بیچ کر
حاصل کی اس کے بیٹے نے کرسی مدیر کی
اتنا پڑھایا باپ نے اخبار بیچ کر
اس بد نصیب باپ کی مجبوریاں نہ پوچھ
خوشیاں خریدتا ہے جو گھر بار بیچ کر
مہنگی بہت پڑی مجھے سورج کی دوستی
پچھتا رہا ہوں سایۂ دیوار بیچ کر
جن کو شعور بندگی کرتا ہے رب عطا
جنگل خرید لیتے ہیں گھر بار بیچ کر
عالمؔ اسی طرح سے جو ہم منتشر رہے
کھا جائیں گے وطن کو یہ غدار بیچ کر
87856 viewsghazal • Urdu