اقدار کہن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
اقدار کہن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا
گھر اس کے چلے جاؤ تو آنے نہیں دیتا
ملتا ہے مگر ہاتھ ملانے نہیں دیتا
دیوار تکلف کی گرانے نہیں دیتا
معلوم نہیں مجھ سے وہ خوش ہے کہ خفا ہے
چہرے پہ کوئی رنگ ہی آنے نہیں دیتا
توہین عدالت کی سزا اس کو ملی ہے
جو عدل کو سولی پہ چڑھانے نہیں دیتا
طارق کی قیادت کے طلب گار تو سب ہیں
کشتی ہی کوئی آج جلانے نہیں دیتا
آساں تو یہی ہے کہ اٹھو شہر جلاؤ
جنگل میں کوئی آگ لگانے نہیں دیتا
اس شخص سے پھل کی کوئی امید رکھے کیا
جو پیڑ کے پتے بھی اٹھانے نہیں دیتا
عرفانؔ مرے شہر کی گلیاں ہیں بہت تنگ
دیوار کوئی اپنی گرانے نہیں دیتا
گھر اس کے چلے جاؤ تو آنے نہیں دیتا
ملتا ہے مگر ہاتھ ملانے نہیں دیتا
دیوار تکلف کی گرانے نہیں دیتا
معلوم نہیں مجھ سے وہ خوش ہے کہ خفا ہے
چہرے پہ کوئی رنگ ہی آنے نہیں دیتا
توہین عدالت کی سزا اس کو ملی ہے
جو عدل کو سولی پہ چڑھانے نہیں دیتا
طارق کی قیادت کے طلب گار تو سب ہیں
کشتی ہی کوئی آج جلانے نہیں دیتا
آساں تو یہی ہے کہ اٹھو شہر جلاؤ
جنگل میں کوئی آگ لگانے نہیں دیتا
اس شخص سے پھل کی کوئی امید رکھے کیا
جو پیڑ کے پتے بھی اٹھانے نہیں دیتا
عرفانؔ مرے شہر کی گلیاں ہیں بہت تنگ
دیوار کوئی اپنی گرانے نہیں دیتا
62161 viewsghazal • Urdu