عقل کا ہر سوال کاٹ دیا

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
عقل کا ہر سوال کاٹ دیا
بے خودی نے وبال کاٹ دیا
مچھلیاں تو پھنسی ہوئی تھیں مگر
ایک کچھوئے نے جال کاٹ دیا


فاعلاتن نے جب نظر بدلی
ہم نے تازہ خیال کاٹ دیا
اک ذرا آنکھ لگ گئی تھی رات
قصہ گو نے وبال کاٹ دیا


کام مشکل تھا پر سویرے تک
میں نے ماضی سے حال کاٹ دیا
ایک دن آنسوؤں کی ترشی نے
آپ کا بھی رومال کاٹ دیا


راہ میں آسمانی لشکر کو
جو ملا پائمال کاٹ دیا
29786 viewsghazalUrdu