اشک آنکھوں میں بہانے کے لیے رکھے ہیں

By hamza-bilalFebruary 26, 2024
اشک آنکھوں میں بہانے کے لیے رکھے ہیں
قیمتی موتی لٹانے کے لیے رکھے ہیں
ٹکڑے ٹکڑے تری تصویر نہیں کی ہے فقط
سن لے یہ خط بھی جلانے کے لیے رکھے ہیں


غیر کے ساتھ رفاقت ہے مگر ہم جیسے
بزم میں شعر سنانے کے لیے رکھے ہیں
ان پیادوں سے محبت ہی نہیں ہے تم کو
یہ تو بس جان گنوانے کے لیے رکھے ہیں


مجھ کو معلوم ہے یہ ہونٹ مرے گالوں پر
تو نے احسان جتانے کے لیے رکھے ہیں
کچھ منافق تو خدا تو نے ہماری صف میں
صرف احساس دلانے کے لیے رکھے ہیں


چند بوسے جو مرے نام کے ہوتے حمزہؔ
اس نے محفوظ زمانے کے لیے رکھے ہیں
92269 viewsghazalUrdu