اشک سے دریا ہوا دریا سے طوفاں ہو گیا
By bhagwan-khilnani-saqiFebruary 26, 2024
اشک سے دریا ہوا دریا سے طوفاں ہو گیا
کشتیٔ عمر رواں کا ساز و ساماں ہو گیا
فصل گل میں دل کی وحشت کا جو ساماں ہو گیا
چاک دامن ہو گیا پرزے گریباں ہو گیا
دفعتاً اس نے رخ روشن سے جب الٹی نقاب
ایک میری بات کیا عالم بھی حیراں ہو گیا
یوں بظاہر برق کی پوری ہوئی خواہش مگر
آشیانہ جل کے خود گلشن پہ قرباں ہو گیا
اب رہائی کی کوئی صورت نظر آتی نہیں
مرغ دل میرا اسیر زلف پیچاں ہو گیا
رنج و غم درد و الم ساقیؔ نے اپنے دے دئے
میری خاطر خوب آسائش کا ساماں ہو گیا
کشتیٔ عمر رواں کا ساز و ساماں ہو گیا
فصل گل میں دل کی وحشت کا جو ساماں ہو گیا
چاک دامن ہو گیا پرزے گریباں ہو گیا
دفعتاً اس نے رخ روشن سے جب الٹی نقاب
ایک میری بات کیا عالم بھی حیراں ہو گیا
یوں بظاہر برق کی پوری ہوئی خواہش مگر
آشیانہ جل کے خود گلشن پہ قرباں ہو گیا
اب رہائی کی کوئی صورت نظر آتی نہیں
مرغ دل میرا اسیر زلف پیچاں ہو گیا
رنج و غم درد و الم ساقیؔ نے اپنے دے دئے
میری خاطر خوب آسائش کا ساماں ہو گیا
66202 viewsghazal • Urdu