تھکن سے جسم مرا جب بھی ٹوٹ جائے گا
By wasim-nadirJanuary 5, 2024
تھکن سے جسم مرا جب بھی ٹوٹ جائے گا
ترا خیال مرا حوصلہ بڑھائے گا
رفاقتوں کا سفر دیر تک نہیں رہتا
کسی مقام پہ یہ چاند ڈوب جائے گا
ٹھہر گیا مری آنکھوں میں درد کا موسم
ترا خیال مجھے جانے کب رلائے گا
وہ جن کے گھر میں کتابوں کو کھا گئی دیمک
انہیں بتاؤ کہاں سے شعور آئے گا
یہ عشق لائے گا اس موڑ پر تجھے اک دن
غزل نہیں تو مرا نام گنگنائے گا
ترا خیال مرا حوصلہ بڑھائے گا
رفاقتوں کا سفر دیر تک نہیں رہتا
کسی مقام پہ یہ چاند ڈوب جائے گا
ٹھہر گیا مری آنکھوں میں درد کا موسم
ترا خیال مجھے جانے کب رلائے گا
وہ جن کے گھر میں کتابوں کو کھا گئی دیمک
انہیں بتاؤ کہاں سے شعور آئے گا
یہ عشق لائے گا اس موڑ پر تجھے اک دن
غزل نہیں تو مرا نام گنگنائے گا
50911 viewsghazal • Urdu