ازل تا حال مقید سی اک حیات میں ہوں

By asim-qamarFebruary 25, 2024
ازل تا حال مقید سی اک حیات میں ہوں
سزا بطور کسی اور کائنات میں ہوں
مرے طبیب مجھے ہچکیوں کا نسخہ دے
بھرم رہے میں کسی کے تصورات میں ہوں


کوئی نہیں تھا تو خود سے سوال وصل کیا
جواب آیا معافی حصار ذات میں ہوں
سر وجود کوئی کربلا مسلط ہے
شدید پیاس ہے اور وادیٔ فرات میں ہوں


ترا بھی کوئی تجھے چھوڑ کے چلا جائے
میں کچھ دنوں سے اسی خواہش نشاط میں ہوں
بشیر بدرؔ پڑھو گے تو میں ملوں گا تمہیں
اداسی نام سے حضرت کی کلیات میں ہوں


14346 viewsghazalUrdu