آبلہ پائی کا نشہ نہ گیا

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
آبلہ پائی کا نشہ نہ گیا
ہم سے سب کی طرح چلا نہ گیا
غم تو یہ ہے تری صدا پر بھی
میں کبھی دوڑتا ہوا نہ گیا


تم نے آزاد کر دیا جس کو
اس پرندے سے پھر اڑا نہ گیا
اشک دیتے رہے خطوں کا جواب
نامہ بر سے مگر لکھا نہ گیا


وہ جو خاموشیوں نے لکھا تھا
وہ فسانہ کبھی کہا نہ گیا
اک فرشتہ بلا رہا تھا مجھے
تیری دہلیز سے اٹھا نہ گیا


رسم وہ بھی ہمیں نے پوری کی
تم سے برباد بھی کیا نہ گیا
36995 viewsghazalUrdu