بدن باندھے ہوئے سانسوں کی رہداری میں رہتے ہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
بدن باندھے ہوئے سانسوں کی رہداری میں رہتے ہیں
کہ ہم ہر دم کہیں جانے کی تیاری میں رہتے ہیں
نہ ہوں آنسو تو یہ آنکھیں بھلی لگتی نہیں ہم کو
سو اکثر آپ اپنی ہی دل آزاری میں رہتے ہیں


ہمیں معلوم ہے رونق یہ بازاروں کی جھوٹی ہے
مگر پھر بھی فریب حسن بازاری میں رہتے ہیں
ہم اہل عشق پھر اہل ہوس سے مات کھا بیٹھے
وظیفہ خوار بزم حسن درباری میں رہتے ہیں


ہمارے دل تو ہیں مصروف سرکاریں گرانے میں
بدن تعمیل احکامات سرکاری میں رہتے ہیں
دبے ہیں خاک میں کتنے ہی سورج چاند اور تارے
سو ہم اپنی زمیں کی آسماں کاری میں رہتے ہیں


ہماری شاعری اک مستقل ہولی کا موسم ہے
ہزاروں رنگ اس لفظوں کی پچکاری میں رہتے ہیں
جناب فرحت احساسؔ اب نہ شہری ہیں نہ صحرائی
مسلسل درمیان خواب و بے داری میں رہتے ہیں


86372 viewsghazalUrdu