بڑھتے بڑھتے کوئی دن میں پہلے تو دریا ہوئے

By basheer-ahmad-basheerJanuary 19, 2024
بڑھتے بڑھتے کوئی دن میں پہلے تو دریا ہوئے
پھر پڑی افتاد کچھ ایسی کہ ہم صحرا ہوئے
کتنا سمجھایا یہ پتھر اور پتھر ہو گئے
وائے قسمت ہم بھی کیسے دور میں برپا ہوئے


تھی ازل سے ہی یہ مٹی تیرہ باطن دوں سرشت
تھے ہمیں ناداں کبھی پتھر بھی آئینہ ہوئے
آگ برساتا ہوا آخر وہ دن بھی آ گیا
بھر گئے روحوں میں شعلے جسم انگارہ ہوئے


سب اچانک تج گئے بستی کھلے در چھوڑ کر
چلمنیں سب بجھ گئیں سب بام بے جلوہ ہوئے
چوکھٹوں پر اجنبی قدموں کی ابھریں آہٹیں
سیڑھیاں دھڑکیں چھتیں لرزیں دریچے وا ہوئے


چاند کتنے اس افق پر ڈوب کر ابھرے ادھر
کتنے سورج اس طرف پنہاں ادھر پیدا ہوئے
لے گئے تم بھید سارے ساتھ یہ اچھا ہوا
تم ہوئے افشا نہ ان گلیوں میں ہم رسوا ہوئے


وہ جھروکا دم بخود گم صم رہا پھر بھی بشیرؔ
میں نے سو پوچھا وہ روز و شب وہ لمحے کیا ہوئے
24373 viewsghazalUrdu