باہر کی کیا یاد آئے گھر یاد نہیں آتا

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
باہر کی کیا یاد آئے گھر یاد نہیں آتا
اب تو اپنا جسم بھی اکثر یاد نہیں آتا
زخموں کی ساری تحریریں یکساں لگتی ہیں
کس نے مارا پہلا پتھر یاد نہیں آتا


کہاں اٹھایا کہاں جھکایا کہاں کٹایا تھا
اتنے کرداروں والا سر یاد نہیں آتا
روح کہاں کی جب جسم و جاں پر بن آئی ہو
کوئی قلندر کوئی پیمبر یاد نہیں آتا


کرتے کرتے رقص ٹھہر جاتا ہوں گھبرا کر
جب بھی اپنے رقص کا محور یاد نہیں آتا
اپنی شان نزول سمجھ میں آنے لگتی ہے
جب کوئی اپنے سے برتر یاد نہیں آتا


قطرے نے آپ اپنی شخصیت حاصل کر لی
باغی کو اب ملک سمندر یاد نہیں آتا
تجھ کو تو سب یاد ہے جان من فرحت احساسؔ
تو ہی کیوں پھر آگے بڑھ کر یاد نہیں آتا


75307 viewsghazalUrdu