بہت چاہا کہ کچھ کہہ دیں زباں پھر بھی نہیں کھولی
By devesh-dixitFebruary 5, 2024
بہت چاہا کہ کچھ کہہ دیں زباں پھر بھی نہیں کھولی
کسی کے سامنے دل کی کبھی عرضی نہیں کھولی
تمہاری یاد آئی تو اڑے گی نیند راتوں کی
اسی ڈر سے زمانہ ہو گیا کھڑکی نہیں کھولی
ہماری بے بسی پڑھ کر گلے سب دور ہو جاتے
مگر افسوس تم نے آخری چٹھی نہیں کھولی
کمانا ویرتھ ہے اس کا امیری ویرتھ ہے اس کی
مناسب وقت پر جس نے اگر مٹھی نہیں کھولی
بھروسہ اٹھ گیا جب سے یہاں چارہ گروں سے پھر
کبھی زخموں سے ہم نے بھول کر پٹی نہیں کھولی
وہی اب دم جو بھرتا ہے سمندر ناپ لینے کا
کبھی لنگر سے اس نے آج تک کشتی نہیں کھولی
ہزاروں پرچیاں یادوں کی ہیں دل کی تجوری میں
مگر کنجوس من نے ایک بھی پرچی نہیں کھولی
کسی کے سامنے دل کی کبھی عرضی نہیں کھولی
تمہاری یاد آئی تو اڑے گی نیند راتوں کی
اسی ڈر سے زمانہ ہو گیا کھڑکی نہیں کھولی
ہماری بے بسی پڑھ کر گلے سب دور ہو جاتے
مگر افسوس تم نے آخری چٹھی نہیں کھولی
کمانا ویرتھ ہے اس کا امیری ویرتھ ہے اس کی
مناسب وقت پر جس نے اگر مٹھی نہیں کھولی
بھروسہ اٹھ گیا جب سے یہاں چارہ گروں سے پھر
کبھی زخموں سے ہم نے بھول کر پٹی نہیں کھولی
وہی اب دم جو بھرتا ہے سمندر ناپ لینے کا
کبھی لنگر سے اس نے آج تک کشتی نہیں کھولی
ہزاروں پرچیاں یادوں کی ہیں دل کی تجوری میں
مگر کنجوس من نے ایک بھی پرچی نہیں کھولی
68215 viewsghazal • Urdu