باقی جو لوگ ہیں کہیں ہوتے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
باقی جو لوگ ہیں کہیں ہوتے
شہر میں بس تمہیں مکیں ہوتے
راستے سب اگر حسیں ہوتے
فاصلے پیدا ہی نہیں ہوتے


ہائے وہ آسمان بھی کیا تھا
میں نے دیکھا جسے زمیں ہوتے
تو ہی تو ہے تری کہانی میں
کاش ہم بھی کہیں کہیں ہوتے


یہ ستون آندھیوں میں کیوں گرتے
گر ذرا اور تہ زمیں ہوتے
بس میں ہوتی جو گردش دوراں
تم جہاں ہوتے ہم وہیں ہوتے


پیار کیا صرف جی حضوری ہے
آپ ناراض کیوں نہیں ہوتے
پھول اترا رہے ہیں خوشبو پر
کاش تم بھی یہیں کہیں ہوتے


یہ بھی سچ ہے کہ روبرو تیرے
ہم جو ہوتے ہیں وہ نہیں ہوتے
94333 viewsghazalUrdu