بس اک پتلا تھا مٹی سے بنا میں

By farooq-noorFebruary 6, 2024
بس اک پتلا تھا مٹی سے بنا میں
کرم تیرا کہ کیا سے کیا ہوا میں
تری پہچان جس دن سے ہوئی ہے
ہوں اپنے آپ کو بھولا ہوا میں


اکیلا ہے اگر کوئی تو تو ہے
جو تنہا ہوں تو ہوں تیرے سوا میں
جو کچھ ہوتا تو شاید کچھ نہ ہوتا
نہ ہو کے کچھ بہت کچھ ہو گیا میں


ہے میری ذات کا عرفان مشکل
کہیں پتھر کہیں ہوں دیوتا میں
تمہارا رنگ جس دن سے چڑھا ہے
نظر آنے لگا سب سے جدا میں


فنا ہونی ہے جب ہر شے یہاں کی
تو پھر کیا چیز ہے تو اور کیا میں
ٹھٹھرتی شام میں جلتا ہوا وہ
سلگتی رات میں بجھتا ہوا میں


نئی رت میں نئی تھی چاہ ہم کو
ذرا وہ بے وفا تھا اور ذرا میں
اگر اس شہر میں شاعر ہے کوئی
تو پہلا نورؔ ہے اور دوسرا میں


56245 viewsghazalUrdu