بس وہی لفظ تذکرے میں ہے
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
بس وہی لفظ تذکرے میں ہے
وہ جو شامل ترے پتے میں ہے
یہ بھی اک وصف ہے عبادت کا
یہ محبت کے قافیے میں ہے
جب بھی چاہوں میں دیکھ لیتا ہوں
وہ نگاہوں کے حافظے میں ہے
وہ مزہ خود کو دیکھنے میں کہاں
جو مزہ تجھ کو دیکھنے میں ہے
میں جسے رات بھر مناتا ہوں
وہ دیوالی مرے دیے میں ہے
آپ کی بزم ناز میں آ کر
جی حضوری بڑے مزے میں ہے
اس کے پاؤں میں ہلتی ہے پازیب
اور کھنکتی مرے گلے میں ہے
وہ جو شامل ترے پتے میں ہے
یہ بھی اک وصف ہے عبادت کا
یہ محبت کے قافیے میں ہے
جب بھی چاہوں میں دیکھ لیتا ہوں
وہ نگاہوں کے حافظے میں ہے
وہ مزہ خود کو دیکھنے میں کہاں
جو مزہ تجھ کو دیکھنے میں ہے
میں جسے رات بھر مناتا ہوں
وہ دیوالی مرے دیے میں ہے
آپ کی بزم ناز میں آ کر
جی حضوری بڑے مزے میں ہے
اس کے پاؤں میں ہلتی ہے پازیب
اور کھنکتی مرے گلے میں ہے
24127 viewsghazal • Urdu