بزم امکاں میں کوئی مجھ سا نظر باز نہیں

By bishan-dayal-shad-dehlviFebruary 26, 2024
بزم امکاں میں کوئی مجھ سا نظر باز نہیں
یہ جگر دیکھ کہ اس پر بھی مجھے ناز نہیں
ظلم کیا کرتی تری چشم فسوں ساز نہیں
اک اچھوتی سی حیا کا مجھے انداز نہیں


نازش بربط دل درد ہے آواز نہیں
حامل سوز نہیں تار تو وہ ساز نہیں
آج حاصل ہے سکوں مجھ کو جنوں کے صدقے
اب کسی سمت سے آتی کوئی آواز نہیں


داور عشق نے بخشی ہے وہ مصروف نظر
فکر انجام نہیں فرصت آغاز نہیں
کعبۂ حسن میں یوں دل نہیں لگتا اپنا
صورت ناز نہیں سیرت انداز نہیں


عین مستی ہے بھلا کون دے زاہد کو جواب
جام گل رنگ تو شرمندۂ آواز نہیں
ہائے صیاد نے آزاد کیا تو اس دم
جب کہ بازو میں مرے جرأت پرواز نہیں


اک تبسم کے تصور میں فدا جان نہ کر
اتنی تعجیل ابھی او دل جانباز نہیں
آپ کی رات کیوں آنکھوں میں کٹی کچھ سمجھے
اس کی لاٹھی میں کہاوت ہے کہ آواز نہیں


جس میں دشمن بھی کرے آرزو مر جانے کی
لطف دلدار سے بہتر کوئی اعجاز نہیں
شادؔ اک حسن طرح دار کی عصمت کی قسم
عشق منظور حقیقت ہے کوئی راز نہیں


33323 viewsghazalUrdu