بے رخی ہے کہ تغافل ہے سزا ہے کیا ہے

By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
بے رخی ہے کہ تغافل ہے سزا ہے کیا ہے
مہرباں غیر پہ کیوں اتنا ہوا ہے کیا ہے
میرے آنے سے فقط بزم سراسیمہ ہے کیوں
آج محفل میں جو اک شور بپا ہے کیا ہے


جام اوقات سے زائد نہیں دیتا ہے نہ دے
ساقیا کچھ بھی نہ دینے پہ تلا ہے کیا ہے
عشق سے قبل نہ سمجھا تھا جو اب سمجھا ہوں
شیخ صاحب نے جو ارشاد کیا ہے کیا ہے


شوق کہتا تھا کہ سب قید کرے گا منظر
تاب جلوؤں کی مگر لا نہ سکا ہے کیا ہے
نام لے کر جو سر بزم پکارا ان کو
ہر کوئی چیخ اٹھا بولئے کیا ہے کیا ہے


جنگ جاری ہے مسلسل مرے اندر احمرؔ
عاجزی ہے کہ تماشا ہے انا ہے کیا ہے
17914 viewsghazalUrdu