بلا مطلب کوئی آتا نہیں تھا

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
بلا مطلب کوئی آتا نہیں تھا
ہمارے گھر میں دروازہ نہیں تھا
مرے تالاب سے گہرا نہیں تھا
وہ کچھ بھی تھا مگر دریا نہیں تھا


سمندر اس لئے برہم تھا مجھ سے
میں صحرا تھا مگر پیاسا نہیں تھا
مکمل جب ہوئی تصویر میری
تو کوئی دیکھنے والا نہیں تھا


جو کانٹوں پر کتابیں لکھ رہے تھے
کوئی ان میں برہنہ پا نہیں تھا
صدارت اور نظامت کے علاوہ
مری محفل میں کچھ ہوتا نہیں تھا


لکیریں روز گنواتی ہیں مجھ سے
مری تقدیر میں کیا کیا نہیں تھا
43962 viewsghazalUrdu