بجھتی آنکھوں میں حسیں خواب کہاں آتے ہیں
By hamza-bilalFebruary 26, 2024
بجھتی آنکھوں میں حسیں خواب کہاں آتے ہیں
اب سر بام وہ مہتاب کہاں آتے ہیں
بزم اغیار میں بیٹھا ہوں تماشا بن کر
دل دکھانے مرے احباب کہاں آتے ہیں
ہاتھ رکھ لیتا ہوں دل پر میں تڑپ کر دیکھو
مجھ کو بھی ہجر کے آداب کہاں آتے ہیں
ہم سے دیوانے میسر ہی نہیں دنیا کو
سیپ میں گوہر نایاب کہاں آتے ہیں
اس محبت کے سفر میں ہے اذیت حمزہؔ
دشت کے بیچ میں تالاب کہاں آتے ہیں
اب سر بام وہ مہتاب کہاں آتے ہیں
بزم اغیار میں بیٹھا ہوں تماشا بن کر
دل دکھانے مرے احباب کہاں آتے ہیں
ہاتھ رکھ لیتا ہوں دل پر میں تڑپ کر دیکھو
مجھ کو بھی ہجر کے آداب کہاں آتے ہیں
ہم سے دیوانے میسر ہی نہیں دنیا کو
سیپ میں گوہر نایاب کہاں آتے ہیں
اس محبت کے سفر میں ہے اذیت حمزہؔ
دشت کے بیچ میں تالاب کہاں آتے ہیں
67357 viewsghazal • Urdu