بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائے
By badiuzzaman-saharJanuary 19, 2024
بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائے
وہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائے
حسن تاباں کی تجلی کا وہ عالم ہو کہ بس
اک جھلک دیکھ کے تسکین نظر ہو جائے
کوئی تو جلوہ کناں ہو مہ و انجم کی طرح
دیدۂ شوق کی جو راہ گزر ہو جائے
عارض حسن پہ راتوں کا بسیرا ہے تو کیا
رخ سے جھٹکا دے جو زلفوں کو سحر ہو جائے
ہم کہ موسیٰ نہیں کوئی جو تقاضا کرتے
حسن خود چاہے تو محفوظ نظر ہو جائے
ہم وفا کر کے بھی بدنام بہت ہیں یارو
وہ جفا بھی جو کریں ہیں تو ہنر ہو جائے
تم کریدا نہ کرو دل کی دبی راکھوں کو
شعلہ شعلہ نہ کہیں خاک شرر ہو جائے
سامنے اس کے سمندر کی حقیقت کیا ہے
ایک قطرہ جو گنہ گار گہر ہو جائے
نوع آدم میں کوئی تخم سحرؔ ہے کہ نہیں
خاک کے پردے سے نکلے تو بشر ہو جائے
وہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائے
حسن تاباں کی تجلی کا وہ عالم ہو کہ بس
اک جھلک دیکھ کے تسکین نظر ہو جائے
کوئی تو جلوہ کناں ہو مہ و انجم کی طرح
دیدۂ شوق کی جو راہ گزر ہو جائے
عارض حسن پہ راتوں کا بسیرا ہے تو کیا
رخ سے جھٹکا دے جو زلفوں کو سحر ہو جائے
ہم کہ موسیٰ نہیں کوئی جو تقاضا کرتے
حسن خود چاہے تو محفوظ نظر ہو جائے
ہم وفا کر کے بھی بدنام بہت ہیں یارو
وہ جفا بھی جو کریں ہیں تو ہنر ہو جائے
تم کریدا نہ کرو دل کی دبی راکھوں کو
شعلہ شعلہ نہ کہیں خاک شرر ہو جائے
سامنے اس کے سمندر کی حقیقت کیا ہے
ایک قطرہ جو گنہ گار گہر ہو جائے
نوع آدم میں کوئی تخم سحرؔ ہے کہ نہیں
خاک کے پردے سے نکلے تو بشر ہو جائے
81557 viewsghazal • Urdu