چلتے چلتے ساتھی کوئی بچھڑا تو افسوس ہوا
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
چلتے چلتے ساتھی کوئی بچھڑا تو افسوس ہوا
ہاتھوں سے جب ہاتھ کسی کا چھوٹا تو افسوس ہوا
کتنی ناؤ ڈبو کر ہم نے دریا کا رخ بدلا تھا
موڑ پہ آ کر سوکھ گیا جب دریا تو افسوس ہوا
دل کا کرب چھپانے کا فن مشکل ہے آسان نہیں
ہنستے ہنستے اس کو روتا دیکھا تو افسوس ہوا
یہ مت پوچھو ان سے کیا کیا امیدیں وابستہ تھیں
پتھر سے ٹکرا کے شیشہ ٹوٹا تو افسوس ہوا
دنیا کی بے راہروی پر پہروں سوچا کرتا تھا
آج ذرا اپنے بارے میں سوچا تو افسوس ہوا
دنیا کی موہوم فضا میں کیا کیا کچھ ہم بھول گئے
بھولے سے عرفانؔ کوئی یاد آیا تو افسوس ہوا
ہاتھوں سے جب ہاتھ کسی کا چھوٹا تو افسوس ہوا
کتنی ناؤ ڈبو کر ہم نے دریا کا رخ بدلا تھا
موڑ پہ آ کر سوکھ گیا جب دریا تو افسوس ہوا
دل کا کرب چھپانے کا فن مشکل ہے آسان نہیں
ہنستے ہنستے اس کو روتا دیکھا تو افسوس ہوا
یہ مت پوچھو ان سے کیا کیا امیدیں وابستہ تھیں
پتھر سے ٹکرا کے شیشہ ٹوٹا تو افسوس ہوا
دنیا کی بے راہروی پر پہروں سوچا کرتا تھا
آج ذرا اپنے بارے میں سوچا تو افسوس ہوا
دنیا کی موہوم فضا میں کیا کیا کچھ ہم بھول گئے
بھولے سے عرفانؔ کوئی یاد آیا تو افسوس ہوا
64761 viewsghazal • Urdu