چاند دیکھا کہ بس وہ یاد آئے
By betab-amrohviFebruary 26, 2024
چاند دیکھا کہ بس وہ یاد آئے
اور آنکھوں نے اشک برسائے
یہ قفس ہے کہ آشیاں تو نہیں
جی قفس میں نہ کیسے گھبرائے
مجھ کو آخر قفس میں لا ڈالا
واہ صیاد صائب الرائے
دن دہاڑے ڈراتے رہتے ہیں
آج کل خود مجھے مرے سائے
مجھ کو اپنا بنا کے چھوڑ دیا
تم نے یہ کیا غضب کیا ہائے
اور آنکھوں نے اشک برسائے
یہ قفس ہے کہ آشیاں تو نہیں
جی قفس میں نہ کیسے گھبرائے
مجھ کو آخر قفس میں لا ڈالا
واہ صیاد صائب الرائے
دن دہاڑے ڈراتے رہتے ہیں
آج کل خود مجھے مرے سائے
مجھ کو اپنا بنا کے چھوڑ دیا
تم نے یہ کیا غضب کیا ہائے
50458 viewsghazal • Urdu