چیخیں لمبی ہو جاتی ہیں
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
چیخیں لمبی ہو جاتی ہیں
تو خاموشی ہو جاتی ہیں
مہنگے سپنے مت دیکھا کر
آنکھیں خالی ہو جاتی ہیں
شاعر مہنگے ہو جائیں تو
غزلیں سستی ہو جاتی ہیں
برگ و بار ہرا رکھنے میں
شاخیں پیلی ہو جاتی ہیں
ایک دیا روشن کرنے میں
راتیں کالی ہو جاتی ہیں
کوئی زباں ہو دیوانوں میں
باتیں پھر بھی ہو جاتی ہیں
پتھر وتھر بھرتے رہیے
غزلیں بھاری ہو جاتی ہیں
تو خاموشی ہو جاتی ہیں
مہنگے سپنے مت دیکھا کر
آنکھیں خالی ہو جاتی ہیں
شاعر مہنگے ہو جائیں تو
غزلیں سستی ہو جاتی ہیں
برگ و بار ہرا رکھنے میں
شاخیں پیلی ہو جاتی ہیں
ایک دیا روشن کرنے میں
راتیں کالی ہو جاتی ہیں
کوئی زباں ہو دیوانوں میں
باتیں پھر بھی ہو جاتی ہیں
پتھر وتھر بھرتے رہیے
غزلیں بھاری ہو جاتی ہیں
93779 viewsghazal • Urdu