ہوں مشت خاک مگر کوزہ گر کا میں بھی ہوں
By irfan-siddiqiFebruary 6, 2024
ہوں مشت خاک مگر کوزہ گر کا میں بھی ہوں
سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں
کبھی ہوائے سر شاخسار ادھر بھی دیکھ
کہ برگ زرد ہوں لیکن شجر کا میں بھی ہوں
یہ تیز روشنیوں کا دیار ہے ورنہ
چراغ تو کسی تاریک گھر کا میں بھی ہوں
تمہارے زخموں سے میرا بھی ایک رشتہ ہے
لہو نہیں ہوں مگر چشم تر کا میں بھی ہوں
مجھے کھنچی ہوئی تلوار سونپنے والے
میں کیا کروں کہ طرفدار سر کا میں بھی ہوں
اب آ گئی ہے سحر اپنا گھر سنبھالنے کو
چلوں کہ جاگا ہوا رات بھر کا میں بھی ہوں
سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں
کبھی ہوائے سر شاخسار ادھر بھی دیکھ
کہ برگ زرد ہوں لیکن شجر کا میں بھی ہوں
یہ تیز روشنیوں کا دیار ہے ورنہ
چراغ تو کسی تاریک گھر کا میں بھی ہوں
تمہارے زخموں سے میرا بھی ایک رشتہ ہے
لہو نہیں ہوں مگر چشم تر کا میں بھی ہوں
مجھے کھنچی ہوئی تلوار سونپنے والے
میں کیا کروں کہ طرفدار سر کا میں بھی ہوں
اب آ گئی ہے سحر اپنا گھر سنبھالنے کو
چلوں کہ جاگا ہوا رات بھر کا میں بھی ہوں
43260 viewsghazal • Urdu