دم رخصت فراہم ہجر کا سامان کرتے ہیں

By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
دم رخصت فراہم ہجر کا سامان کرتے ہیں
دل حیرت زدہ کو اور بھی حیران کرتے ہیں
اٹھائیں کس قدر احساں کرم فرمائیوں کا ہم
زمانے بھر میں کہتے ہیں کہ وہ احسان کرتے ہیں


نظر انداز کرنے کا گلہ ان سے نہیں لیکن
ہمیں بھی دیکھنا ہے وہ کسے مہمان کرتے ہیں
ڈراتے کیا ہو نادانو انہیں اونچی عمارت سے
چٹانوں کا جو سینہ چیر کر میدان کرتے ہیں


وفا کی جستجو میں ہم کسی ویران رستے پر
متاع زندگی کا کس قدر نقصان کرتے ہیں
درون ذات کی پیچیدگی کچھ کم نہیں احمرؔ
زمانے کے لیے ہم شاعری آسان کرتے ہیں


63770 viewsghazalUrdu