دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتا
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتا
فنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتا
کیا راس اسے آئے گی دستار فضیلت
جو اپنے اصولوں کی حفاظت نہیں کرتا
اس دور میں ہم اس کو فرشتہ ہی کہیں گے
فاقوں میں جو غیرت کی تجارت نہیں کرتا
طوفان سے لڑنے کا اگر شوق نہ ہوتا
میں عظمت ساحل سے بغاوت نہیں کرتا
شاید ہے عزیز اس کو مری مفلسی عالمؔ
وہ میرے مقدر کی مرمت نہیں کرتا
فنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتا
کیا راس اسے آئے گی دستار فضیلت
جو اپنے اصولوں کی حفاظت نہیں کرتا
اس دور میں ہم اس کو فرشتہ ہی کہیں گے
فاقوں میں جو غیرت کی تجارت نہیں کرتا
طوفان سے لڑنے کا اگر شوق نہ ہوتا
میں عظمت ساحل سے بغاوت نہیں کرتا
شاید ہے عزیز اس کو مری مفلسی عالمؔ
وہ میرے مقدر کی مرمت نہیں کرتا
18341 viewsghazal • Urdu