در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دئے
By ikram-arfiFebruary 6, 2024
در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دئے
غریب گھر کی ضرورت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہوس نژاد پروفیسروں نے ظلم کیا
کتاب چھوڑ کے عفت نے گھٹنے ٹیک دئے
سنا ہے آج کسی مافیا کی پیشی تھی
سنا ہے آج عدالت نے گھٹنے ٹیک دئے
قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف
مقدمے کی سماعت نے گھٹنے ٹیک دئے
غلام دیکھ کے شہزادی نے سلام کیا
تو بادشاہ سلامت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہمارے دم سے محبت کا بول بالا تھا
ہمارے بعد محبت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہماری پیار کی عادت نہیں گئی اکرامؔ
ہمارے سامنے عادت نے گھٹنے ٹیک دئے
غریب گھر کی ضرورت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہوس نژاد پروفیسروں نے ظلم کیا
کتاب چھوڑ کے عفت نے گھٹنے ٹیک دئے
سنا ہے آج کسی مافیا کی پیشی تھی
سنا ہے آج عدالت نے گھٹنے ٹیک دئے
قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف
مقدمے کی سماعت نے گھٹنے ٹیک دئے
غلام دیکھ کے شہزادی نے سلام کیا
تو بادشاہ سلامت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہمارے دم سے محبت کا بول بالا تھا
ہمارے بعد محبت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہماری پیار کی عادت نہیں گئی اکرامؔ
ہمارے سامنے عادت نے گھٹنے ٹیک دئے
75297 viewsghazal • Urdu