دیکھو پرانے خواب نئے خواب کے لیے
By ahmar-nadeemFebruary 5, 2024
دیکھو پرانے خواب نئے خواب کے لیے
یعنی نظام گنبد و محراب کے لیے
مٹی کے اس بدن کو ضرورت کفن کی ہے
فرصت نہیں ہے اطلس و کمخواب کے لیے
گل تیری مہربانی ہو خاروں پہ اس قدر
اچھا نہیں ہے بلبل بیتاب کے لیے
دشت جنوں کی راہ میں نکلا تھا میں مگر
واپس پلٹ کے آ گیا احباب کے لیے
احمرؔ کہاں گئے وہ دوانے کہ رات بھر
در در بھٹک رہے تھے جو شب تاب کے لیے
یعنی نظام گنبد و محراب کے لیے
مٹی کے اس بدن کو ضرورت کفن کی ہے
فرصت نہیں ہے اطلس و کمخواب کے لیے
گل تیری مہربانی ہو خاروں پہ اس قدر
اچھا نہیں ہے بلبل بیتاب کے لیے
دشت جنوں کی راہ میں نکلا تھا میں مگر
واپس پلٹ کے آ گیا احباب کے لیے
احمرؔ کہاں گئے وہ دوانے کہ رات بھر
در در بھٹک رہے تھے جو شب تاب کے لیے
32575 viewsghazal • Urdu