دیر سے اپنے اپنے گھیرے میں

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
دیر سے اپنے اپنے گھیرے میں
لوگ بیٹھے ہوے ہیں رستے میں
ایک گاہک تھا وہ بھی چھوڑ گیا
اب رکھیں گے دکان اکیلے میں


میں نے پنجرہ تو توڑ ڈالا مگر
فاختہ آ گئی لپیٹے میں
بین بجتے ہی ایک اور ناگن
ناچنے لگتی ہے سپیرے میں


اس کے قدموں میں ڈال پہلا پھول
جس نے مٹی بھری تھی گملے میں
گھر میں اک آئنہ بھی ہوتا تھا
بس وہی ڈھونڈتا ہوں ملبے میں


بچے بچے کو کر رہا ہوں سلام
اس کے کوچے کے پہلے پھیرے میں
ایک مچھلی جو ریت پر تڑپی
جان سی پڑ گئی مچھیرے میں


62101 viewsghazalUrdu