دھوپ میں قطرۂ شبنم کو ترس جاؤ گے
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
دھوپ میں قطرۂ شبنم کو ترس جاؤ گے
شہر میں گاؤں کے موسم کو ترس جاؤ گے
زخم اتنے تمہیں آوارہ مزاجی دے گی
گردش وقت کے مرہم کو ترس جاؤ گے
دن میں جگنو کی تباہی پہ منا لو خوشیاں
شب میں چمکے گا تو ماتم کو ترس جاؤ گے
زندگی سے کبھی آرام طلب مت کرنا
دوستو محنت پیہم کو ترس جاؤ گے
آدمیت کے لبادے میں رہو تم ورنہ
ایک دن نسبت آدم کو ترس جاؤ گے
آج آسانی سے ملتا ہوں تو مل لو ورنہ
دیکھنے کے لئے عالمؔ کو ترس جاؤ گے
شہر میں گاؤں کے موسم کو ترس جاؤ گے
زخم اتنے تمہیں آوارہ مزاجی دے گی
گردش وقت کے مرہم کو ترس جاؤ گے
دن میں جگنو کی تباہی پہ منا لو خوشیاں
شب میں چمکے گا تو ماتم کو ترس جاؤ گے
زندگی سے کبھی آرام طلب مت کرنا
دوستو محنت پیہم کو ترس جاؤ گے
آدمیت کے لبادے میں رہو تم ورنہ
ایک دن نسبت آدم کو ترس جاؤ گے
آج آسانی سے ملتا ہوں تو مل لو ورنہ
دیکھنے کے لئے عالمؔ کو ترس جاؤ گے
15313 viewsghazal • Urdu